speech in Urdu

Speech In Urdu (اردو میں بھاشن )

speech in urdu
بھاشن کا لگاتار مشق کرتے رہنے سے انسان میں بولنے کا معدہ بڑھتا رہتا ہے – اسکول میں یا کسی بھی فنکشن میں بچوں کو بھاشن کے لئے زور دیا جاتا ہے- جسکی وجہ سے بچوں میں بولنے کی جھجھک دور ہو
– جاتی ہے- اور بچے کہیں بھی کتنی بھی بھیڑ میں آسانی سے بے جھجھک بول پاتے ہیں – یہاں کئی ٹاپک پر اردو میں بھاشن دیا جا رہا ہے جسکی مدد سے بچے کہیں بھی آسانی سے بھاشن دے سکتےہیں

بھاشن نمبر١ (Speech In Urdu)

Speech in Urdu on the position of teachers (استاد کی اہمیت پر اردو میں بھاشن )

Dear brothers and sisters I am ………………………… from…………………………. in this Murad Memorial Public School. I am delighted to speak my ideas about the position of teachers in Urdu in front of you.

خداۓ پاک کی ذات آعلیٰ نے مخلوقات میں انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عنایات فرمایا ہے – پھر انسان کے اندر عقل کی نسبت سے ایسی ایسی خوبیاں پیدا کی ہے کہ دنیا اسکے کارناموں کو دیکھ کر حیران و پریشان ہے-عقل الله پاک کی دی ہوئ نعمت ہے – جسے استاد اپنی محنت اور دانشمندی سے اپنے شاگردوں میں تقسیم کرتے ہیں- اگر استاد نہ ہو ، استاد کی محنت ، شفقت اور محبّت نہ ہو تو الله پاک کی یہ نعمت کمزور
-ہوتی چلی جاتی ہے

اسمیں زنگ لگتا چلا جاتا ہے – پھر انسان نام کا انسان باقی رہ جاتا ہے – الله پاک کی ذات اعلیٰ کے بعد ماں باپ اور استاد کا درجہ بلند ہے – استاد کی قدر و منزلت سمجھنے والے راجاؤں نے اور ماں باپ نے بھی اپنے بچوں کو
-استاد کی قدر کرنے کو سکھایا ہے

speech in Urdu

اسلامی دور حکومت میں بھی سب کے سردار خلیفہ محترم نے بھی استاد کی قدر کی ہے – اپنے بچوں کو استاد کی منّت سماجت کرکے انکی شاگردی میں رکھا ہے – استاد کی قدر و منزلت اگر نام نہاد ہوتی ، تو بھگوان
رام اپنے بھائی کو دسٹ راون کے پاس تعلیم حاصل کرنے نہیں بھیجتے – راون صرف اور صرف علم کی بدولت مہان تھا

ایک بار استاد کی قدر کرتے ہوئے ایک شاگرد شیرنی کا دودھ دوہنے چلا گیا اور استاد کی دعا سے کامیاب بھی ہوا- استاد کی دعا میں ایٹم بم سے بھی زیادہ طاقت ہوتی ہے – انکی دعا سے شاگردوں کی بگڑی زندگی سنور
جاتی ہے- شرط ہے کہ استاد کی قدر سچے دل سے کی جائے – ہندو دھرم میں بھی استاد کے درجے کا بیان اس طرح کیا گیا ہے “گرو گووند دوں کھڑے کا کو لاگوں پاؤں” – ” بلی ہاری گرو آپنو جن گووند دیو بتاے ”
، ہم تمام لوگوں کو اپنی اور اپنے بچوں کی فلاح، بہبودی اور کامیاب زندگی کے واسطے استادوں کی قدر کرنی چاہئیے – قومی نعرہ میں عام لوگوں کو معلوم ہے کہ دیش کا نیتا کون مہان جواب میں درج ہے شکچھک
سینک اور کسان – استاد کی قدر ہمیشہ دنیا نے جانی اور مانی ہے – ہم لوگوں کو ہر حال میں استاد کی قدر ور انکی خوشی کا خیال رکھنا چاہئیے – اتنا کہتے ہوئے میں اپنی باتیں ختم کرتا/کرتی ہوں

جے ہند ، جے بھارت ، جے جوان ، جے کسان ، آزاد رہے ہندوستان ، مراد میموریل پبلک اسکول زندہ باد

speech in Urdu

(Speech In Urdu) – بھاشن نمبر- ٢

(speech in Urdu on the position of society) سماج کے حالت پر اردو میں بھاشن

Dear brothers and sisters I am ………………………… from…………………………. in this Murad Memorial Public School. I am delighted to speak my ideas about the position of our society in Urdu in front of you.

انسان عقل، دانشمندی، معاملہ فہمی کی وجہ کر اشرف المخلوقات کا درجہ پایا ہے- مخلوقات مے اشرفیت کا درجہ برقرار رکھنے کے واسطے انسان سماج کا محتاج ہے- اگر سماج کی صحبت، سماج کی محبّت اور ہمدردی حاصل نہ ہو تو انسان نام کا انسان رہ جائیگا- اور خدادا نعمت میں
-کمی اور محرومی پیدا ہوتی چلی جائیگی

سماج انسان کی جماعت سے بنتا ہے- جماعت کے تعام لوگوں کا چست، درست اور اچھے ذہنیت کا ہونا لازمی ہے- اخلاقی درستگی انسان کی
-اصلی کامیابی ہے- ہمارے تمام معاملات زندگی خدا پاک کے مرضی کے مطابق ہونا چاہئیے

بڑے افسوس کا مقام ہے کہ آج سماج کے حالات بہت بگڑے بگڑے سے ہیں- زیادہ تر لوگوں مے انسان کی پہچان، قوم کی پہچان، وطنیت کی پہچان تک باقی نہیں ہے- آفت تو یہ ہے کہ ہر فرد کو اپنے انسان ہونے پر فخر ہے- اور اپنے آپ کو سماج میں خوشحال ور ترقی یافتہ سمجھتا
-ہے- آج سماج کا زیادہ تر جوان قانون شکنی کا مزاج لیکر جیتا ہے -ایسے جوان سماج کا کوڑھ ہے

مکمّل امن کا فارمولا الله پاک نے اپنے کلام کو سماج میں پیش کر دیا ہے- لیکن انتہا پسندی جیسے مزاج نے اسے منسوخ کر رکھا ہے- اسی کا نتیجہ ہے کہ سماج میں نفرت، حسد، بغض اور غیبت جیسی برائیاں حد درجہ جڑ پکڑ چکی ہیں- اور تعلیم کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی
-ہے

یہ ہماری بدنصیبی ہے کہ آج گھر گھر تعلیم کی اھمیت پچھلی ضرورت سمجھی جارہی ہے- تعلیم سے خوشحال سماجی زندگی کا جنم ہوتا ہے- اگر فرد میں تعلیم نہ ہو تو وہ جنگلی جانور یا بھوت جیسا ہے- جنگلی جانور اور بھوت کا سارا عمل دوسروں کو نقصان پہنچانا ہے- سماج کے ہر فرد کا درست ہونا یقینی شرط ہے- سماج اگر پڑھا لکھا ہوگا تو ہر فرد میں ہمدردی، محبّت، اتفاق اور مدد کا جذبہ ہوگا- اور پھر ہر جگہ امن
-کامیابی اور خوشحالی قائم ہوگی

آج ہر تعلیم یافتہ اور باشعور لوگ سماج کی بگڑی ہوئ حالت کو دیکھ کر گھٹن محسوس کرتے ہیں- آج کے سماج کے لوگوں کی بولی، ان کا پہناوا، انکا لینا دینا یعنی ہر معاملات میں دھوکہ، ٹھگی اور بدمزاجی پیدا ہو گئی ہے- ضرورت ہے کہ سماج کے ہر فرد کو تعلیمی اداروں، درسگاہوں اور بڑے بزرگوں سے انکی نسبت جوڑی جائے- اور علم دانوں کے ساتھ ان میں محبّت اور قدردانی کا جذبہ پیدا کیا جائے- ہم سبھوں
-میں سماج کی خدمت کا جذبہ ہونا چاہئے- یہ دینی دنیاوی دونوں کامیابی کا ذریعہ ہے

جے ہند ، جے بھارت ، جے جوان ، جے کسان ، آزاد رہے ہندوستان ، مراد میموریل پبلک اسکول زندہ باد

(Speech In Urdu)بھاشن نمبر – ٣

Speech in Urdu on girls education لڑکیوں کی تعلیم پر بھاشن

I am Haneefa Bano. Daughter of Md Gayasuddin from Parsa. In this Murad Memorial Public School Parsa.

آج کے اس بہت اہم اور تاریخی دن کے موقہ پر بڑے ادب اور احترام کے ساتھ میں لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالنا چاہتا/چاہتی ہوں- دین اسلام میں خدا پاک نے لڑکیوں کا بھت اونچا مقام کا ذکر کیا ہے- ہمارے ہندو دھرم میں بھی لڑکیوں کا اونچا مقام بتایا ہے- اور دیکھا گیا ہے
-کہ یہی سیتا بنی، یہی میرا بنی یہی رانی بنی تھی جھانسی کی

اسی طرح آج دنیاں حضرت آمنہ رضی الله عنہا، حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کا نام بڑے ادب و احترام کے ساتھ لیا کرتی ہے- اسکی وجہ تھی کہ و دین اور دنیاں کے ہر علم سے واقف تھیں- لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آج کے لوگ لڑکیوں کی تعلیم کو ضروری نہیں سمجھتے- کچھ لوگ
-تو لڑکیوں کی تعلیم کو غیر ضروری اور برا سمجھتے ہیں

ایسے لوگوں کو آج کے اس مبارک تاریخ میں سمجھنا ہوگا کہ مرد اور عورت گاڑی کے دو پہیوں کے مانند ہیں- اگر گاڑی کا ایک پہیا کمزور ہو تو گاڑی درست نہیں چل سکتی- اسی طرح شوہر خوب پڑھا لکھا ہو اور بیوی پڑھی لکھی نہ ہو تو ان دونوں کی زندگی میں خوشحالی قایم نہ
-ہوگی- حضرت عبدلقادر جیلانی رحمت الله علیہ اپنے ماں کی وجہ سے بڑے پیر بنے

امریکن صدر ابراہم لنکن نے کہا میں اپنی ماں کی وجہ سے امریکہ کا صدر بنا- اسی طرح سیکڑوں مثالیں ہین، جس سے پتا چلتا ہے کہ مرد کی مانند عورتوں کا پڑھا لکھا ہونا بہت زیادہ ضروری ہے- امید ہے کہ تمام بڑے بزرگ اپنی اپنی بیٹیوں کی تعلیم پر خاص توجہ دینگے- آج کی یہ
-تاریخ رہتی دنیاں تک قایم رہے دعا کرتے اپنی باتیں ختم کرتا/کرتی ہوں

جے ہند ، جے بھارت ، جے جوان ، جے کسان ، آزاد رہے ہندوستان ، مراد میموریل پبلک اسکول زندہ باد

(Speech In Urdu) 4 بھاشن نمبر

Speech in Urdu on the importance of mother ماں کی اہمیت پر اردو میں بھاشن

انسان کا وجود دنیا کی خوبصورتی و بقا کے واسطے ہوا ہے- انسانی وجود میں ماں کا درجہ بڑے اہمیت کا حامل ہے- ماں حوا نہ ہوتی تو دنیا
-میں انسان کا وجود نہ ہوتا- ہمارا وجود ماں کی انتھک محنت، حد درجہ پریشانی اور ناقابل برداشت دکھ کے بعد ہوا ہے

ہمارے وجود میں پڑوس کی دوسری ماؤں کی محبّت اور کٹھور محنت و مدد شامل ہے- ساری مائیں بہت ہمدرد اور خیر خواہ ہوتی ہیں- ان
-سبھوں کا دل محبّت اور خدمت کا خزانہ ہوتا ہے

اولاد کی پرورش، پھر پیدائش میں ہونے والی تکلیف کو مد نظر رکھتے ہوئے، خدا پاک کی ذات اعلی نے اپنے پاک کلام میں ماں کا درجہ سب
-سے اعلی اور افضل بتایا ہے- تمام رشتوں میں ماں کا مقام سب سے اعلی اور پاک بتایا ہے

رسول صلی الله علیه وسلّم کا ارشاد گرامی ہے کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنّت ہے- ارشاد گرامی کا مفہوم ہے- ماں کی دل سے خدمت کرنا
-اور انھیں خوش رکھنا چاہئیے- ایسا کرنے میں خود کا فایدہ ہے- دنیا بھی درست اور آخرت بھی درست ہوگا

ہمیں ماں کے ساتھ سب سے زیادہ محبّت، ہمدردی، اخلاص اور عقیدت سے پیش آنا چاہئیے- انکی پسند اور مرضی کا خیال رکھنا چاہئیے-ہم
-کہیں بھی ہوں ماں کی محبّت، عزت، احترام اور انکی پسند کا لحاظ ہونا چاہئیے

خود کی مانگی ہوئ دعائیں جلدی، یا زندگی میں کبھی یا حشر کے میدان میں پوری ہونگی- لیکن ماں کی دعائیں اولاد کے حق میں جلدی قبول
-ہوتی ہیں- اولاد کے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت ہوتی ہے، اور بڑی سے بڑی بلا بھی ما کی دعاؤں سے ٹل جاتی ہے

-میں آج اس منچ سے تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ماں کی خدمت دل و جان سے کریں- اتنا کہتے ہوئے میں اپنی بٹن ختم کرتا/کرتی ہوں

جے ہند ، جے بھارت ، جے جوان ، جے کسان ، آزاد رہے ہندوستان ، مراد میموریل پبلک اسکول زندہ باد

speech in Urdu

(Speech In Urdu) 5 بھاشن نمبر

یوم جمہوریہ پر بھاشن

سامعين کرام، خواتین حضرات اور میرے پیارے دوستو! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ. جشن یوم جمہوریہ کی مناسبت سے یہ ادنی سا طالب
.علم آپ کے سامنے کچھ بولنے کی جسارت کر رہا ہے. امید ہے دعاؤں سے نوازیں گے
محترم حضرات!
آج یوم جمہوریہ ہے. پراچین کال میں ہمارے دیش بھارت کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا. مگر فرنگی صیادوں نے اس خوبصورت پنچھی کے گلے میں غلامی کا طوق ڈال دیا تھا. دھیرے دھیرے پورے ملک پر قبضہ جمانا شروع کر دیا. پھوٹ ڈالو سیاست کرو کی آگ میں ہندوستان
.جھلس کر رہ گیا. زبانِ حق کاٹی جانے لگی اور یہ دھرتی کراہ اٹھی
وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے… تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
سامعین کرام!
یہ سب دیکھ کر باشند گان ہند سے رہا نہ گیا. ظلم و تشدد کے آگے سینہ سپر ہو گئے. ٹیپو کی تلوار چمکنے لگی. 1857 میں پلاسی کے میدان میں آزادی کی خونریز جنگ لڑی گئی. لیکن میر جعفر اور انگریزوں کے دُم چھلوں کی وجہ سے ہم جیتی بازی ہار گئے. چن چن کر ہمارے علماء شہید کیے گئے. مدرسوں پر بلڈوزر چلا دیا گیا. مندر و مسجد کو ویران کر دیا گیا. دلہنوں کا سندور چھینا گیا. بہنوں کی عصمت لوٹی گئ
.اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ سونے کی چڑیا لہولہان ہو گئی.
عالی ذی وقار!
قربان جائیے ان سرفروشوں پر جنہوں نے اتنا کچھ ہونے کے باوجود فرنگیوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے. دشمنوں کے چھکے چھڑا دیے. سولی کے پھندے کو گلے کا ہار سمجھ کر پہن لیا. اپنے خون جگر سے آزادی کی عبارت لکھی، آزادی کے ان متوالوں نے ہمارے لیے اپنی لاشوں اور آہوں پر سوراج(آزادی) کا آفتاب روشن کیا. بالآخر تن کے گورے من کے کالے انگریزوں کو یہاں سے بھاگنا پڑا. اور 15 اگست 1947 کو ہمارا ملک فرنگیوں کے چنگل سے آزاد ہو گیا.
لیکن، جناب عالی!
ہمارا اپنا کوئی دستور و سنویدھان نہیں تھا. 1949ء میں با با بھیم راؤ امبیڈکر کی صدارت میں دستور ساز کمیٹی تشکیل دی گئی. اور آزادی کے ڈھائی برس بعد 26 جنوری 1950ء کو ہمارا اپنا جمہوری نظام نافذ ہوا. وہ ہماری پہلی یومِ جمہوریہ تھی. اسی دن سے ہر سال اس تاریخ کو یومِ جمہوریہ منایا جاتا ہے .
پیارے بھارت واسیوں !
آج یوم جمہوریہ ہے. یہ یومِ جمہوریہ یوم احتساب بھی ہے. مجاہدین کی آزادی کو یاد کرنے کا دن ہے. تاریخ آزادی کو تازہ کرنے کا دن ہے. دلوں سے نفرت دور کرنے کا دن ہے، ایک دوسرے کو گلے لگانے کا دن ہے اور سب سے بڑھ کر ہندو مسلم، سکھ عیسائی کے ایکتا کا دن ہے.
برادران وطن!
آزادی اور جمہوریت کے اتنے سالوں بعد ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے. مندر مسجد کے نام پر خوب لڑ لیے. سنگھیوں اور نیتاؤں کے بہت شکار ہوئے. لیکن آج یوم جمہوریہ کے اس شبھ اوسرپرایک ساتھ آئیں، گاندھی اور آزاد کا رول پلے کریں اور ایک سُر میں گنگنائیں
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہیں ہندوستاں ہمارا
اور آخر میں اس شعر پر اپنی تقریر ختم کر رہا ہوں
دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت
میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
جے ہند ، جے بھارت ، جے جوان ، جے کسان ، آزاد رہے ہندوستان ، مراد میموریل پبلک اسکول زندہ باد

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *